کاروار،23/ فروری (ایس او نیوز) کانگریس کے ترجمان شمبھو شیٹی نے الزام لگایا ہے کہ اسمبلی اسپیکر وشویشورا ہیگڈے کاگیری کی سفارش پر ریاستی کابینہ نے پریش میستا کی موت کے بعد ہوئے فسادات میں ملوث جن 112ملزمین کے مقدمات واپس لیے ہیں وہ صرف سرسی سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جبکہ ضلع بھر سے ہندوتوا وادی کارکنان پر توڑ پھوڑ اور آتشزنی کے مقدمات دائر کیے گئے تھے۔
شمبھو شیٹی کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے دفتر سے مقدمات واپس لینے کی جو تفصیل جاری ہوئی ہے ان ملزمین کا تعلق صرف سرسی کے علاقے سے ہے اور ضلع بھر کے بقیہ ملزمین کے تعلق سے نہ کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بیان دیا گیا ہے ۔ پریش میستا کی موت کے بعد براہ راست سنگھ پریوار کی قیادت میں فرقہ وارانہ زہر سماج میں گھولنے کے بعد ہوناور اور کمٹہ میں شروع ہونے والا فساد سرسی تک پھیل گیا تھا جس پر قابو پانے کے لئے پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج جیسے اقدامات کرنے پڑے تھے ۔ اسی پس منظر میں غریب اور پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نوجوان مقدمات اور عدالت کے چکر میں پھنس گئے ۔ ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور اب بھی وہ لوگ بڑی مشکلات سے گزر رہے ہیں ۔
کچھ دن پہلے فسادات میں ملزمین میں شامل کچھ نوجوانوں نے بی جے پی قیادت پر الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کی قیادت ان کی کوئی مدد نہیں کر رہی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہے ۔ انہوں نے بی جے پی کی طرف سے ان کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کے خلاف کھلے عام برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے خلاف احتجاجی مظاہرا کیا تھا ۔ اس سے بی جے پی کی ریاستی قیادت اور اسمبلی اسپیکر وشویشورا ہیگڈے کاگیری کے کان کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنے علاقے میں ہندوتوا ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کے لئے قریبی اور شناسا لوگوں پر لگے ہوئے مقدمات واپس لینے کی سفارش حکومت سے کی اور اپنے پسندیدہ 112 لوگوں کے مقدمات واپس لینے میں کامیاب ہوگئے۔